ایسے کپڑے مت پہننا، لوگ کیا کہیں گے؟
یہ کام مت کرنا، لوگ کیا کہیں گے؟
ان کے ساتھ مت ہنسنا بولنا، لوگ کیا کہیں گے؟
دعوت نہیں دی، لوگ کیا کہیں گے؟
لفافے میں صرف ۱۰۰۰؍ روپے دیئے، لوگ کیا کہیں گے؟
کبھی سوچا ہے؟ کون ہیں وہ ’لوگ‘ ؟
جن کے کچھ بولنے سے ہم اتنا ڈرتے ہیں؟
لوگ کیا کہیں گے، یہ سوچ سوچ کر زندگی بھر ہم اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹتے رہتے ہیں۔
کان پک گئے سن سن کر یہ الٹے سیدھے سوال!
کیا ہے یہ سب! کیوں کر رہے ہیں ہم یہ سب؟ اپنی ہی خواہشوں کو دبا رہے ہیں
خود کے ہی خوابوں کو چھین رہے ہیں؟
خود ہی خود کی اڑان کو روک رہے ہیں؟
کیوں اپنے دکھ پر پردہ ڈال کر دکھاوا کر رہے ہیں؟
یہ ’لوگ‘ ہیں کون؟ ذرا سوچئے، ذرا رکیں اور بات کریں اپنے آپ سے
یہ ’لوگ‘ ہم ہی تو ہیں ہاں! دوسروں کیلئے ہم ’لوگ‘ ہیں اور ہمارے لئے دوسرے،
ذرا اس طرح سوچیں کہ آپ کے سامنے جو پڑوسی رہتے ہیں ناں ثنااللہ، محمد علی،دعا یا شازیہ جی جو بھی ہیں، مان لو ان کے کاروبار میں بڑا نقصان ہوا اب پیسے کی بہت تنگی ہے
مگر وہ یہ ظاہر ہونے دینا نہیں چاہتے اور ویسے
ہی دکھاوے کی زندگی جی رہے ہیں کیونکہ پتہ نہیں آپ کیا کہیں گے،
اب آپ ہی بتایئے آپ کو کیا فکر ہے ان کے کاروبار کی!
آپ کے تو خود کے کاروبار کی حالت بری ہے، لیکن آپ بھی تو انہیں کی طرح ہیں اندر سے کھوکھلے ہو رہے ہیں لیکن اوپر اتنا دکھاوا کی پوچھئے ہی مت،
دونوں زندگیوں کو آسان بنایا جاسکتا ہے، تھوڑی سی سمجھ سے! لیکن نہیں، حل کے بجائے ماتھے پر اور بل پڑ جاتے ہیں
ایک خاتون کے شوہر کا کوئی کام شروع نہیں ہو پا رہا تھا جبکہ وہ لوگ اچھی خاصی جائیداد کے مالک تھے، سب باپ دادا کا کمایا سب اڑا دیا،چلو کوئی بات نہیں، اب بھی دیر نہیں ہوئی،
اب کچھ کام کر لو، مگر نہیں! انہیں تو اپنے اسٹینڈرڈ سے زیادہ محبت ہے
یہ سوچ جو درمیان میں حائل ہے، اس کا کیا کریں؟
کون سی سوچ ! یہی کہ لوگ کیا کہیں گے؟
اب انہیں کون سمجھائے کہ کام سے اسٹینڈرڈ بنایا جاتا ہے نہ کہ جھوٹی شان سے،
سیدھی سی بات ہے سب اپنی زندگی میں الجھے ہیں، پریشان ہیں،
ان سے ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں.... صبح سے رات تک.... دن سے سال تک۔ ایسے میں کیا سوچیں گے وہ آپ کے بارے میں!
انہیں فرصت کہاں؟ اور جو خاندان خوش ہیں اپنی زندگی میں، وہ زندگی کی ان خوشیوں کا لطف اٹھانے میں ایسے مگن ہیں کہ انہیں آپ کی پرابلم کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں۔
چلئے ایک اور مثال لیجئے۔ آپ کو ایک شادی میں جانا ہے۔ آپ تو ہیں درمیانی طبقے سے لیکن شادی اونچے طبقے کے رشتہ دار کی ہے،
اب وہاں شریک ہونے کے لئے اچھے کپڑے، سینڈل، جویلری اور میک اپ چاہئے،
ساتھ ہی ساتھ گفٹ بھی اچھا ہونا چاہئےایسا ویسا تو چلے گا نہیں، نہیں تو ’لوگ‘ کیا کہیں گے! ٹھیک ہے!
تو آپ نے اپنی جیب کاٹ کے، کچھ بھی کر کے سب خرید لائیں اور شادی میں شامل ہوجائیں پھر.... اس سے کیا ہوا؟
کیا آپ کے کپڑوں پر کسی کا دھیان گیا؟
کیا کسی نے آپ کے میچنگ شوز اور قیمتی گھڑی دیکھی؟
ہاں! دیکھا ناں، آپ نے خود نے!
کیونکہ باقی سارے بھی تو یہی کر رہے تھے، اپنے خود کے مہنگے کپڑے، گاڑی دکھانے کی کوشش، آپ کی تقریب میں یہ سوچ رہے تھے کہ شاید سب مجھے دیکھ رہے ہیں
اور باقی سب بھی یہی سوچ کر ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ انہیں کون کون دیکھ رہا ہے ،
ہم اپنے آپ کو اتنا چاہتے ہیں کہ اپنی تضحیک یا نیچا دکھانا ذرا بھی برداشت نہیں اور اس لیے کچھ ایسا نہیں کرتے جس سے لوگ کچھ کہیں۔
سب کو ایسا ہی جینا ہے،ایسی ہی عادت ہوگئی ہے ہمیں مگر بس ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے، یہ سماج ہم ہی سے بنا ہے
ہم ہی ہیں وہ ’لوگ‘ جن سے سب ’لوگ‘ ڈرتے ہیں اور ہمیں یہ اچھے سے معلوم ہے کہ اگر کوئی اپنے من کی کرنا چاہے تو ہم ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے،
لوگ کچھ نہیں کہتے! صرف ہم ہی سوچتے ہیں اور اگر لوگ کچھ کہیں تو یاد رکھیں ہم بھی تو ’لوگوں‘ میں ہی ہیں، واپس کہہ سکتے ہیں کیوں صحیح کہا ناں؟ اس لئے آئندہ یہ سوچئے ہی نہیں کہ ’لوگ‘ کیا کہیں گے؟
بلکہ جو آپ کو درست لگتا ہے اس پر عمل کریں کیونکہ دکھاوے کی زندگی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے
ہم نے اللہ کہ خوف کو دل سے نکال کر لوگوں کا خوف دل میں پال لیا ہے
ہم یہ نہیں سوچتے کہ جو ہم کر رہے ہیں اس سے لوگ تو خوش ہو رہے ہیں مگریہ اللہ کی ناراضگی کا باعث بن رہا ہے
یہ نہیں سوچتے بس یہ کہتے ہیں لوگ کیا کہیں گے ہم نے کیوں خالق کا ڈر دل سے نکال کر مخلوق کا ڈر دل میں بسا لیا ہے
ہمیں ادھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہ وہ ہی دنیا ہے وہ ہی لوگ ہے جو اچھائی اور برائی دونوں کےبعد بھی باتیں کرتے ہیں
بھئی یہ دنیا ہے یہ تمہارے پیٹھ پیچھے برائی کرے گی اور منہ پر تعریفیں،
کاش کہ ہمیں اس بات کا ڈر ہو تا کہ ہمارا مالک حقیقی کیا سوچتا ہوگا جب ہم لوگوں کے ڈر سے کوئی نیکی کے کام سے رک جاتے ہیں،

.jpeg)
0 Comments